33

خاتون جج کو دھمکیوں کےکیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

اسلام آباد: خاتون جج  کو دھمکیوں کےکیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےگئے۔

تھانہ مارگلہ کے علاقہ مجسٹریٹ نے خاتون مجسٹریٹ زیباچوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا عکس،ٹوئٹر
عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا عکس،ٹوئٹر

وارنٹ گرفتاری  تھانہ مارگلہ میں 20 اگست کو درج مقدمے میں جاری کیےگئے، مقدمے میں عمران خان کے خلاف دفعہ 504/506  اور  188/189 لگی ہوئی ہے،عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں درج مقدمےکا نمبر 407 ہے۔

مقدمے میں دفعہ 506 دھمکی آمیز بیان دینے پر درج کی گئی۔

واضح رہےکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر خاتون جج کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے مقدمے میں عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ ختم ہوگئی تھی تاہم مقدمے میں عمران خان نے باقی دفعات میں ضمانت نہیں کروائی تھی،  عدالت نے ملزم عمران خان کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

خیال رہے 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنےکا اعلان کیا تھا اور دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ کو نام لیکر دھمکی بھی دی تھی۔

تقریر کے اگلے روز عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کےحکم کے تحت دہشت گردی کی دفعہ ختم کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف کیس سیشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

آج بھی عمران خان نے خاتون جج سے متعلق توہین آمیز الفاظ کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں بیان حلفی جمع کرایا تاہم واضح طور پر معافی مانگنے سے گریز کیا۔

عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت کے سامنے جو کہا اس پر مکمل عمل کروں گا، عدالت اطمینان کے لیے مزید کچھ کہے تو اس پر مزید عمل کرنے کے لیے تیار ہوں۔

بیان حلفی میں عمران خان نے کہا کہ دوران سماعت احساس ہوا 20 اگست کو تقریر میں شاید ریڈ لائن کراس کی، اگر جج کو یہ تاثر ملا کہ ریڈ لائن کراس ہوئی تو معافی مانگنے کو تیار ہوں۔

گزشتہ روز عمران خان خاتون جج زیبا چوہدری کی عدالت میں بھی پیش ہوئے تھے تاہم پولیس نے خاتون جج کا کمرہ بند کر دیا اور انہیں بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں۔

عمران خان نے ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئےکہا کہ  آپ گواہ رہنا، زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا کہ اگر ان کی دل آزاری ہوئی ہو تو عمران خان معذرت کرنے آئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں