33

کیچ طلبا کی جانب احتجاجی ریلی.

احتجاجی مظاہرے میں بی ایس او پجار کے وائس #چیئرمین بوہیر صالح بلوچ بی ایس او پجار کی صوبائی جنرل سیکریٹری #عابد عمر بلوچ بی ایس او پجار شال زون کے انفارمیشن سیکریٹری #شےمرید رشید ،بی ایس او تربت زون کے صدر #اکرام بلوچ ،بی ایس او پجار تربت زون کے صدر #باھوٹ چنگیز بلوچ، بی ایس او کامریڈ شگفتہ بلوچ اور طلباء کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی
طلباء کے ہاتھوں نااہل بلوچستان یونیورسٹی کے نااہل وائس چانسلر اور انتظامیہ کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے تھے
احتجاجی مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے بلوچستان یونیورسٹی میں پولیس اور ایف سی لاٹھی چارج اور بی ایس او پجار کی مرکزی چیرمین زبیر بلوچ صوبائی صدر بابل ملک بلوچ بی ایس او سنٹرل کمیٹی کے ممبر صمند بلوچ کی پرتشدد گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
اور نااہل وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی کی تبادلہ اور انٹری ٹیسٹ پیٹرن تبدیل کرکے گزشتہ انٹری ٹیسٹ کے مطابق ٹیسٹ لیا جائے ڈسٹرکٹ کوٹہ بحال کیے جائے
مقررین مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کے تربت یونیورسٹی میں نااہل وائس چانسلر اور کچھ پروفیسر صاحبان نے یونیورسٹی میں کرپشن کی بازار گرم کردی ہے
شاپک سے لیکر ہوشاب تک اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی بسزز دستیاب نہیں جس سے اسٹوڈنٹس شدید پریشان اور مشکلات کے شکار ہیں علاقائی ایم پی اے اور وائس چانسلر کی نااہلی اور کرپشن کے سبب اسٹوڈنٹس کی تعلیمی سال زوال کی جانب گامزن مزید مقررین نے کہا کے تربت یونیورسٹی میں اسٹوڈنس کو سیکشنل مارکس کے زریعے بلیک میل کیا جارہا ہے اور کچھ چاپلوس طلباء رہنما اور تنظیم بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں جو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف اس بندر بانٹ اور ایک ایم پی اے کے ہاتھوں چاپلوس بن کر یونیورسٹی انتظامیہ کو بندر بانٹ اور تعلیمی نصاب اور شاپک شہرک ہوشاب روٹ پہ بسسز نہ ہونے کی وجوہات کا علم ہوکر بھی خاموش ہیں جو اس بات کی واضح مثال ہے کے چپلوس تنظیم کے کارکنان اس قومی جرم میں برابر کے شریک دار ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں