42

نشتر ہسپتال کی چھت سے ملنے والی لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے، سردار اختر جان مینگل

سلام آباد(گدروشیا پوائنٹ) نشتر ہسپتال کی چھت سے ملنے والی لاشوں کا فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے.ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےکیا.انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال کی چھت سے لاشیں ملی ہیں،ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے ،اگروہ لاپتہ میں سے ہیں تو ان کے لواحقین کو کم ازکم تسلی ہو جائے گی کہ ان کے لخت جگر اب نہیں رہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سرداراختر مینگل نے کہاکہ ہم دیواروں اور چھتوں سے مخاطب ہوں تو ہی ٹھیک ہوگا،بلوچستان اور ملتان میں لاشوں کے ڈھیر لگائے گئے،یہاں جمہوری حکومتیں بھی رہیں اور غیر جمہوری بھی،مختلف پارٹیز کی حکومتیں آئیں، آئین میں تبدیلیاں آئیں لیکن بلوچسان تبدیل نہیں ہوا،بلوچستان کے حالات تبدیل کیوں نہیں ہو رہے،ہماری باتوں کو تقویت ملتی ہے حکومتوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ان کاکہناتھا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے قتل کئے جانیوالوں کی شناخت ہو گئی،تینوں افراد کو اٹھایا گیا تھا،وسیم تابش طالبعلم تھاجس نے لاپتہ افراد کے حق میں شعر پڑھے تھے،اس ملک میں شاعری بھی گناہ ہے،جولکھتے ہیں بولتے ہیں ان کو اٹھایا جاتا ہے،جب پی ٹی آئی کے اتحادی تھے تو لاپتہ افراد کی فہرست دی تھی،اس میں سے ایک شخص کی لاش مقابلے کی شکل میں ملی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں