33

نشتر ہسپتال سے ملنے والی لاشوں اور بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا چیف جسٹس از خود نوٹس لیں.نصراللہ بلوچ

کوئٹہ(گدروشیا پوائنٹ)چیف جسٹس نشتر ہسپتال سے برآمد مسخ شدہ لاشوں اور بلوچستان میں جعلی مقابلوں میں قتل عام کا ازخود نوٹس لیں .ان خیالات کا اظہاروائس فار بلوچ مسبگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ، ماما قدیر اور حوراں بلوچ نے لاپتہ افراد کے اور فیک انکاونٹر میں قتل کیے گئے افراد کے اہلخانہ کے ہمراہ احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس میں کیا.ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ نشتر ہسپتال ملتان سے برآمد ہونے والے مسخ شدہ لاشوں اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں فیک انکاونٹرز میں لاپتہ افراد کے قتل کا سو موٹو نوٹس لے انہوں نے کہا کہ کہا کہ رواں ماہ خاران اور مستونگ کے علاقے کابو میں جن اافراد کو مقابلے میں مارنے کے دعوی کیاگیا وہ پہلے سے لاپتہ تھے بلوچستان میں 2021 اور 2022 میں 9 فیک انکاونٹر ہوئے ہیں جن میں 85 افراد قتل کیے گیے ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی ریاست کا مجرم ہے تو اسے عدالت کے زریعے سزا دی جائے ہمیں کوئی اعتراز نہیں لیکن فیک انکاونٹرز میں لاپتہ افراد کو قتل کرنا ماورائے آئین اقدام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی شدید الفاظ میں مزہمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے کہ اس انسانیت سوز عمل کو بند ہونا چاہیے۔نصراللہ بلوچ نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان سے سینکڑوں کی تعداد لاشیں ملیں انکے حوالے سےپنجاپ حکومت کی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ بھی ملک کے مختلف حصوں سے ملنے والے مسخ شدہ لاشوں کے شناخت کے زریعے استعمال اور ڈی این اے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر چاروں صوبوں کی حکومتیں عمل درآمد نہیں کررہے ہیں واضع رہے کہ ہم نے 2015 میں مسخ شدہ لاشوں کے شناخت کے زریعے استعمال کرنے، ڈی این اے کرانے اور انکے قتل اور مرنے کے محرکات جاننے کے حوالے سے سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کیا تھا ہمارے درخواست پر سپریم کورٹ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو حکم دیا کہ مسخ شدہ لاشوں کو بغیر شناخت کے نہیں دفنایا جائے انکے ڈی این اے کرانے کے ساتھ انکے قتل اور مرنے کے محرکات جاننے کےلیے تحقیقات کیا جائے لیکن افوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چاروں صوبے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شدید زہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہے کہ کئی یہ لاشیں انکے لاپتہ پیاروں کی نہ ہو کیونکہ جتنی مسخ شدہ لاشیں ملی ہے ان میں سے جن کی پہچان ہوئی ہے ان میں اکثیرت پہلے سے لاپتہ کیے افراد کی ہے انہوں نے کہا کہ جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کرایا جائے اور اگر کوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہے تو اس کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔

Share this:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں