34

عورت : تحریر : عندلیب گچکی

عورت

تحریر: عندلیب گچکی

اردو میں عورت کا لفظ عورہ سے نکلا ہے جس کے معنی “چھپی ہوئی چیز” کے ہیں ، فارسی میں عورت کو زن کہتے ہیں ، جس کےاس طرح کوئی خاص معنی نہیں ۔اسی طرح بلوچی میں جنین یا زالبول کہا جاتا ہے جس کا کوئی ایسا مفہوم نہیں ، یعنی کوئی ایسی چھپانے والی چیز کے معنی میں نہیں آتا۔ جس طرح مرد کے لیے مخصوص لفظ مرد ہوتا ہے اسی طرح عورت کے لیے زالبول ، بس جنس کی تخصیص کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ہم بھی بلوچ معاشرے میں اپنےلیے عورت کے لفظ کے بجائے زالبول کو ہی زیادہ پسند کرتے ہیں ، کیونکہ یہ لفظ عورت معنویت میں معاشرے میں اس کو بہت سارے مساوی حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ لفظ عورت انسان کو چاردیواری میں مقید کرنے کا تصور دیتاہے اور یہ ظاہر کرتاہے کہ عورت کو وہ تمام آزادیاں حاصل نہیں جو ایک مرد کو حاصل ہیں ۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ عورت بھی عورت کے لیے مردوں کی ہی دریافت کردہ اور متعین کردہ نام ہے جو اصل میں ایک خاص پدرشاہی مائنڈ سیٹ اور سوچ کی نشاندھی کرتا ہے ۔بات لمبی ہوئ مگرمیر ا اصل موضوع لفظ عورت کی تشریح کرنا نہیں بلکہ ان حقیقت اور مشکلات کی نشاندہی کرنا ہے جو اس مخصوص ذہنیت کی وجہ سے ، مردوں کے ساتھ رہ کر ایک عورت کو پیش آتی ہیں ۔ اور مرد کیوں عورت کو خود سے کمتر درجہ پہ تصور کرتا ہے۔وہ تمام آزادیاں اور حقوق جو وہ خود کے لیے پسند کرتے ہیں عورت کے لیے کیوں پسند نہیں کرتے ؟
چاہئیے تو یہ تھا کہ بلوچ معاشرے میں عورت کا تصور اردو کے معنی کی بجائے ہماری اپنی زبان کے رائج لفظ جنین کےروپ میں دیکھا جائے کیوں کہ یہی زبان ہماری اصل ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے ۔ مگر افسوس کہ دوسروں کی ثقافت کے اثر میں ہم اپنی بلوچ قوم کی روایات سے دوری اختیا ر کر رہے ہیں ۔کیوں کہ بلوچ معاشرے میں تو زالبول احترام، عزت ، طاقت اور مساوی حقوق کا استعارہ رہی ہے ۔مگر آج کی افسودہ سوچ بلوچ معاشرے میں زالبول کو خود کے مساوی حقوق اور آزادی دینے میں رکاوٹ کی حوصلہ افزائ کر رہی ہے ۔افسوس کہ دن بہ دن عورت کی آزادیوں میں اضافہ کرنے کی بجائے پہلے سے حاصل وہ تمام آزادیاں بھی چھین لینے کی سوچ ہے ، جو صدیوں سے اسے حاصل تھیں ۔آج کا بلوچ مرد بھی آج کی عورت کوکسی ملّا کی دقیانوسی سوچ میں ڈھلتا دیکھنا چاہتا ہے ۔وہ نہیں سوچتا کہ آج کے دور کی زالبول کی جو ضرورتیں ہیں ان کے لئے اٌس کو زیادہ خود مختار کرنے اور زیادہ احترام دینے کی ضرورت ہے کہ وہ معاشرے میں خود کو محفوظ تصور کرے ۔ جب بھی عورت لفظ آزادی کہتی ہے تو مرد اسے شک کی نظر سے دیکھتا ہے ، لیکن درحقیقت عورت وہی آزادی وہی حقوق چاہتی ہے جو ایک مرد خود کے لیے چاہتا ہے ۔ کیا یہ تضاد نہیں کہ مرد خود کے لیے آزادی کو مثبت معنی دے اور عورت کے لیے منفی ؟
زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ، ادب ، سیاست ، فن ، آرٹس ، کوئی بھی شعبہ ہو عورت مشکلات کا شکار رہتی ہے ، اصل میں ان مشکلات کا شکار بھی اس لیے ہوتی ہے کہ اسے وہ تمام آزادیاں حاصل نہیں جو ایک مرد کو ہوتی ہیں ، اس لیے بہت سارے معاملات میں وہ کسی مرد کا ہی محتاج ہوتی ہے اور اسی محتاجی کا بہت ساری جگہوں پہ مرد ہی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اگر عورت کو مرد کی مساوی حقوق اور آزادی ملتی شاید بہت ساری جگہوں پہ وہ کسی کا محتاج نہ رہتی ۔ یہ تو سچ ہے کہ اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام ہی یہی ہے کہ مرد اور عورت زندگی کے مختلف پہلوووں میں ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اور اسی محتاجی سے ہی تو نظام زندگی اور معاشرتی زندگی چل رہی، لیکن یہ گھر اور ایک خاندان تک ہونا تھا ، باہر یا خاندانی زندگی سے باہر کسی مرد کا محتاج ہونا ایک عورت کے لیے زہر بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ انسان عقل و شعور سے کام لے اور سوچ لے کیا یہ تمام قیود اور تمام تر پابندیاں اور معاشرتی ایسے تمام قوانین جو عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کمتر درجہ دیتی ہیں کیا عورتوں کے اپنے بنائے ہوئے قوانین ہیں ؟ اور کیا ان قوانین پہ ہر عورت کی رضا مندی شامل تھی ؟ اگرچہ یہ قوانین عورتوں کے اپنے بنائے ہوئے بھی ہوتے لیکن کیا ضروری ہے آج کی عورت ان تمام پابندیوں کو قبول کرئے جس کا کوئی حصہ بھی ان قوانین سازی میں شامل نہ تھا ؟ قوانین سے میری مراد معاشرتی رسم ءُ رواج اور وہ سوچ ہے جو اس حد تک پروان چڑھی ہیں کہ وہ قانون کا درجہ اختیار کرچکی ہیں اور ان کی خلاف ورزی کسی عورت کے لیے ایک بڑی سزا یہانتکہ اس کی کردار پہ ایک بدنما داغ بھی لگا سکتی ہیں۔ جس نے بھی جب جب ان قوانین کی خلاف ورزی کی تو وہ عورت مختلف طریقوں سے مشکلات کا شکار رہی ، اور کچھ تو جان سے بھی ہاتھ گنوا بیٹھے ۔ جیسا کہ شاہینہ شاہین ۔ میں یہاں بلوچ سیاسی جہدکاروں کی مثال اس لیے پیش نہیں کررہی کہ ان کا مسلۂ صرف معاشرے سے نہیں، ویسا یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی عورت سیاست سے وابستہ ہو یا ادب سے یا لسی بھی اور فیلڈ سے لیکن اس مرد زدہ معاشرے میں اکثر اس کے لیے مشکلات بنائے جاتے ہیں کسی مرد لکھاری کو اتنی تنقید کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا جتنا کہ ایک عورت کو تنقید کا سامنہ کرنا پڑتا ہے اور تنقید بھی کوئی تعمیری یا اصلاحی نہیں ہوتے بلکہ کردارکشی پہ مبنی ہوتے ہیں ۔ معاشرےمیں ، سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو زیادہ تحفظ کا احساس دینے کی بجائے ،اکثر اس کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ بہ حیثیت عورت وہ مردوں سے کمتر ہے ۔ اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ غلط رویّہ اختیار کرے تو بھی سارے مرد حضرات اسی عورت کو ہی قصور وار نہ سمجھ کر بھی اس کا ساتھ دینے میں ہچکچاہٹ سے کام لیتے ہیں اور بسا اوقات تو عورت کو ہی معافی مانگنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ میں اکثر اپنے مشاہدے کی بنیاد پرسوچتی ہوں کہ اگر اس معاشرے میں ایک پڑھی لکھی لڑکی جو اپنے حق میں کبھی کبھی ایک دو لفظ بول لیتی ہے،اُس کو اتنی مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے تو اس معاشرے میں کسی عام عورت کے ساتھ کیا ہورہا ہو گا؟ لیکن معاشرے کے تمام مرد کسی عورت کے بھائی ، یا باپ ضرور ہونگے ، کیا وہ ذرا بھی نہیں سوچتے کہ عورت کو کمزور کروانے والے اپنے ہی گھر کو کمزور کروارہے ہیں؟عورت پہ بے جا پابندی لگانے سے بہتر ہے کہ عورت کو مضبوط بنایا جائے ، وہ تمام رسومات جو عورت کی ترقی میں رکاوٹ ہوں اور وہ تمام بے جا پابندیاں جو عورت کو باہر کسی مرد کا محتاج بنائیں ختم کئے جائیں ۔لیکن ہاں ان کو ختم کرنے کے لیے بھی مرد اورعورت دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ خاص طور پر معاشرے کے پڑھے لکھے مردوں کو دوسروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔ساتھ میں عورت کو حق کے لیے آواز بلند کرنی ہے ۔ معاشرے میں مرد کے مساوی حقوق کے لیے عورت کو مزید جد و جہد کرنی پڑیگی اور اس کے لیے ایک عورت کو عورت کا ساتھ دینا چاہئیے ہر جگہ کسی عورت کے ساتھ کوئی ناانصافی اگر اس لیے ہو کہ وہ ایک عورت ہے تو اس کا ساتھ دینا دوسری عورت کا فرض بن جاتا ہے ، لیکن بدقسمتی سے اکثر عورتیں خود ہی کسی عورت کے خلاف ہو کہ مرد کو طاقت بخشتی ہیں ۔ آج کی عورت کو کل کی عورت کی مظبوطی کے لیے کھڑا ہونا چاہئیے اور ایک مسلسل جدوجہد کرنی چاہئیے اس وقت تک جب تک اسے معاشرے میں مرد کے مساوی آزادی اور حقوق ملیں ۔ آخر میں اپنے صاحبانِ اختیار کو یاد دہانی کروانا چاہتی ہوں کہ ان کو اپنے فیصلوں سے ،اپنے کردارسے اور اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے ، کہ وہ بلوچ قوم کو ترقی کی طرف گامزن جدید معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر پستی کی راہ پر لڑھکتا ہوا معاشرہ۔ آپ معاشرے کو عورت کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں یا غیر محفوظ۔یاد رکھیں کہ یہ اختیار تو ہمیشہ نھیں رہنا۔ آپ کے آج کے فیصلے کل کو آپ کی اپنی بہنوں، بیٹیوں اور نسلوں کے مستقبل کا تعین بھی کریں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں