23

یونیورسٹی آف تربت میں سمسٹر فیسوں اور دیگر مسائل پر طلبا کا شدیداحتجاج،پریس کانفرنس

تربت(گدروشیاپوائنٹ) اسٹوڈنٹس الائنس تُربَت کی جانب سے تربت یونیورسٹی میں فیسز میں اضافے کے خلاف پریس کانفرنس، پریس کانفرنس میں طلبا الائنس کے رہنماوں ڈاکٹرساجد بلوچ،حمل بلوچ،باھوٹ چنگیز،یاسربلوچ،کرم خان بلوچ،رشید بلوچ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم بہ حیثیت طلبہ تنظیموں کا مشترکہ الائنس کے ذمہ دار طالبعلم آپ سب کے سامنے ایک ایسے سنگین قومی و اجتماعی مسئلے کو پیش کرنے کیلئے موجود ہیں جس نے تربت سمیت نگران کے بیشتر علاقوں کے غریب طلبا و طالبات کو اپنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ صحافت جیسے مقدس شعبے سے تعلق رکھنے والے آپ حضرات ہماری آواز کو گھر گھر پہنچانے کی زحمت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ پاکستان کا سب سے پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان ہے جہاں معاشی تعلیمی، سماجی ، معاشرتی ترقی کے تمام دروازے بند نظر آتے ہیں۔ اس صوبے کے بیشتر باشندے معاشی پسماندگی و تنگدستی کے ہاتھوں اتنے جھگڑے ہوئے ہیں کہ تعلیم جیسے زیور سے بھی مجبوراً ہاتھ دو کر بیٹھے گئے ہیں۔ اس معاشی اتار چڑاؤ کے پیش نظر اس سرزمین کے وارث اپنے بچے اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے دوسرے بڑے شہروں میں بھیجنے کی رکت نہیں رکھتے۔ بیشتر والدین اپنے بچوں کو یا تو کسی مقامی جامعہ میں داخلہ دلواتے ہیں یا بیرون ملک بھیج دیتے ہیں تاکہ مالی بحران سے چٹکارہ پا سکیں۔ لیکن مقامی جامعات میں فیسوں کی حد درجہ اضافے سے تعلیمی معاملات زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا جائے تو آنے والے وقتوں میں تعلیم کی شرح مزید اگر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ وقت پہلے جامعہ تربت کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے اسپرنگ سیمسٹر 2023 سے نئے فیس اسٹرکچر کا اجرا کیا ہے جس میں سیمسٹر فیس، باشل فیس اور آمد و رفت فیس شامل ہیں۔ پہلے کی نسبت سیمسٹر فیس میں کچی ڈیپارٹمنوں میں چار سے پانچ ہزار اور کیچ پارٹمنٹوں میں نو سے دس ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ہاسٹل فیس ایک ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار ( ایک دفعہ) اور دو ہزار فی سیمسٹر کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب آمد و رفت کی فیس جو پچھلے کئی وقتوں سے 250 تھی، اسے بڑھا کر چار اور پانچ ہزار فی سیمسٹر کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب سوشل سائنسز کے ڈیپارٹمنٹس میں لیبارٹری فیس لینا بھی سمجھ سے باہر ہے رنمنٹس میں لیب درک نہیں ہوتا۔ اس حساب سے اب ہر طلبا کو پہلے کی نسبت آٹھ سے دس ہزار اضافی فیس جمع کرنا ہوگا جو کہ غریب طالبعلموں کے منہ پر تمانچے کی مانند ہے۔ اسی لیے ربت میں متحرک طلبا تنظیموں کے زونز یعنی بلوچ اسٹوڈنٹس ایکش کمیٹی تربت زون، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بیجار تربت زون اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تربت زون نے مشترکہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک الائنس سٹوڈنٹس الائنس قربت کے نام سے تشکیل دی جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کی سب سے اہم ترین شہر تربت کو تعلیمی بحران سے چھٹکارہ دلا سکے۔ اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ہم نے کل اپنی ایک وفد جامعہ تربت کے رجسٹرار اور وائس چانسلر سے ملاقات کے سلسلے میں بھیج دیا تھا جس کا بنیادی مقصد اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کو پیش کرنا اور مطالبات کی منظوری کے بعد تعلیمی راہ سے معاشی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ لیکن پرو وائس چانسلر نے ہمارے تمام مطالبات کو ایچ ای سی کی طرف سے فنڈز میں کمی، مہنگائی اور مالی بحران کا بہانہ بنا کر ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ ہمارے جائز مطالبات یہ ہیں کہ سیمسٹر میں میں اضافے کی جگہ پچھلی فیس اسٹریکچر کو دوام بخشا جائے، ہاسٹل فیس ایک ہزار سے زائد نہ کیے جائیں، آمد ورفت کی فیس جو فیس اسٹریکچر میں 250 ہے، اسے بڑھایا نہ جائے، ہاسٹل کے طالبات کیلئے جاری کردہ حلفیہ بیان کی شکوں میں ترامیم کیا جائے اور نیچرل اور بیک سائنسز کے ڈیپار رجمنٹس کے علاوہ باقی تمام ڈیپارٹمنٹس میں لیب فیس کا خاتمہ کیا جائے۔ اس لیے آج ہم اس پریس کانفرنس کی توسط سے جامعہ تربت کے انتظامیہ کو چار دن کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے جائز مطالبات کو قبول کر دیں بصورت دیگر ہم سخت سے سخت اقدامات کی جانب بھی جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم تمام طلبہ و طالبات، صحافی حضرات اور تمام مکاتب فکر افراد سے گزارش کرتے ہیں وہ ہماری آواز نہیں تاکہ ہم اپنے تعلیمی کیرئیر کو معاشی پسمندگی کی بھینٹ نہ چھڑنے دیں۔
اسٹوڈنٹس الائنس تربت۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں