34

جنگل کا قانون رائج ہے : تحریر : مینا مجید بلوچ

جنگل کا قانون رائج ہے

تحریر: مینا مجید بلوچ

ضلع کیچ کی تحصیل تمپ و مند میں مصنوعی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ پورے سال لوڈشیڈنگ کا یہی حال ہوتا ہے لیکن یہاں یہ بات حیران کن ہے کہ ہر سال رمضان کے مہینے میں عوام و ناس کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا ہوتاہے ۔ رمضان میں جہاں مسلم ممالک میں عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے لیکن یہاں رمضان میں لوگوں کو شدید تکلیف میں ڈال کر واپڈا کا عوام سے کوئی پرانی دشمنی نظر آتی دیکھائی دیتا ہے ۔ واپڈا کو ہر سال رمضان میں شدید لوڈشیڈنگ اور بیلنگ سسٹم یاد آتا ہے ۔اور عجیب غریب منتق پیش کرتا ہے جس کا نا سر ہے نا پیر ۔
تنگ آکر عوام سڑکوں کو آئیں ہیں احتجاج و ریلیاں کی گئی لیکن افسوس کہ کسی کو کوئی فرق پڑے ۔
واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ بل جمع کریں۔کوئی اس من مان ادارے سے پوچھے آپ نے بیلنگ کے لیے کون سا سسٹم متعارف کرایا ہے ؟ آپ تو مکمل طور پر ناکام رہے ہیں ۔ آپ کے دفاتر میں نا کوئی ٹیکنیکل عملہ موجود ہوتا ہے اور نا ہی بر وقت کوئی مسئلہ حل کرانے کے اہل ہو۔ کئی سالوں سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کے ٹرانسفارمرز خود مرمت کرتے آ رہے ہیں ۔ کوئی بھی مسئلہ ہو عوام ناس نے خود حل کیا ہے ۔ تو آپ کو کن نوافل کا ثواب ملنا چاہیے ؟ اور اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ خود سے چندہ اکٹھا کریں اور آکر آپ جناب کے حوالے کریں ، نا کوئی سرکاری رکارڈ نا کوئی ثبوت ؟ یہ کون سا بل ادا کرنے کا طریقہ ہوتا ہے دور ء جدید میں۔ دوسری طرف علاقے میں معاشی بدحالی کا کوئی مثال نہیں ، بےروزگاری اپنے عروج پر ہے متعبرین سے لیکر پڑھے لیکھے نوجوانوں تک سب ڈرائیور بن چکے ہیں کیونکہ اسکے علاوہ کوئی اور وسیلے نہیں بچا حصول ء رزق کے لیے.تو حکام بالا کو یہ التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بجلی ایران سے فلیٹ ریٹس پر مل رہا ہے نیشنل گریڈ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، لہذا چیرمین واپڈا کو پابند کریں کہ معاشی عدم استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے درجہ بندئے گھرانہ و امیر غریب میں تفریق کی بنیاد پر فلیٹ ریٹس فکس کریں ، باقاعدہ ایک بلینگ سسٹم بنائے اور سرکاری اکاؤنٹ متعارف کرائے جہاں بل رکاڈ کے ساتھ جمع ہو سکیں۔اور ساتھ ساتھ اس بات کی بھی یوین دیہانی کرائے کہ واپڈا اپنے فرائض انجام دینے میں مذید کوتاہی نہیں بھرتے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں