33

کراچی کی تاریخ و تمدن اور انڈیجنس لوگوں کے وکیل کی موت

کراچی کی تاریخ و تمدن اور انڈیجنس لوگوں کے وکیل کی موت

تحریر: ریاض سہیل

گل حسن کلمتی نے ملیر ندی کے سر سبز کنارے پر سیتا پھل اور امرود کی مہک میں بچپن سے لیکر لڑکپن گذارہ، وہ کراچی کی خوشحالی کے چشم دید گواہ تھے پھر انہوں نے اس کی بدحالی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھی، وہ اس کی خوشحالی کی کہانی کراچی کے لافانی کرداروں اور تاریخی عمارتوں میں تلاش کرکے کتاب رقم کردیتے تو کبھی انڈیجنس لوگوں کی محبت و مٹھاس ، مسجد، مندر، مسان و گرجا گھروں سے لیکر مڑھی تک کو قلمبند کرکے کراچی سندھ کی مارئی بنادیتے۔
وہ ان لکھاریوں میں سے نہیں تھے جو کاپی پیسٹ مارتے تھے، انہوں نے قدم بقدم جاکر خود ان مقامات کا دورہ کیا اور اس کو محسوس کرکے لکھا، انہوں نے کراچی کے جزائر کا نوحہ بھی لکھا تو سسئی کے اس راستے کے پیچھے بھی نکل پڑے جہاں سے وہ پنہوں کے تعاقب میں نکلی تھی۔
ان کی محبوب دہرتی کے سینے کو جب بلڈرز کے ایکسیویٹر اور شاول چیرنے لگے، کئی تاریخی قبرستان و آثار قدیمہ اپنا وجود کھونے لگے اور مقامی آبادی کی مستقبل خطرے میں پڑے گیا تو وہ انڈیجینس رائٹس موومنٹ کے متحرک کارکن بن گئے۔
تعلیم تو ان کی کراچی کے ماس کام ڈپارٹمنٹ سے ماسٹرس کی تھی، لیکن وہ تاریخی نویسی اور تاریخ تمدن اور مقامی لوگوں کے وکیل بن گئے۔
ان سے آخری بار کراچی آرٹس کاؤنسل میں ملاقات ہوئی تھی بیماری کے بسترے سے اٹھ کر وہ وہاں پہنچے تھے کچھ کتاب اور کچھ اپنی کہانی سنائی تھی، اس کہانی کا آج اختتام ہوا۔ انہوں نے عوامی تاریخ لکھی ان کا قلم کسی حکمران اور وزیر کی خوشنودی کے لیے نہیں تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں