20

تربت، ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کی مناسبت سےواک اورسیمینار کاانعقاد

تربت(گدروشیاپوائنٹ)ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر مکران میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر، معدہ و جگر کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر وقار تاج اور ڈاکٹر ظفر بلوچ کے زیر اہتمام اور پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو انٹرالوجی و مکران میڈیکل کالج کے تعاون سے ٹیچنگ ہسپتال تربت سے آگاہی واک اور بعدازاں سرکٹ ہاؤس میں سیمینار منعقد کیاگیا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے زمانے میں کیچ کے 12 سو ویکسنیٹر تھے۔ اب ہمارے اداروں میں پڑھے لکھے ڈاکٹر موجود ہیں ہمارے معاشرے کے لوگ اکثر غریب ہیں اسلئے ڈاکٹرز ان کے ساتھ تعاون کریں۔سیمینار میں ماہرین کی جانب سے ہیپاٹائٹس سے بچاو اور علاج سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ ہیپاٹائٹس خاموش قاتل ہے عام شہری ہیپاٹائٹس سی کو بی سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں جو کہ باالکل غلط ہے ہیپاٹائٹس بی زیادہ خطرناک ہے جس کا فوری علاج بہت ضروری ہے ہیپاٹائٹس بی اور سی کی وجوہات میں ناقص پانی خوراک شامل ہے اور علامات ظاہر ہونے کے باوجود علاج نہ کروانا مرض کو مزید خراب کرتا ہے۔ ڈاکٹروں نے ہیپاٹائٹس (پیلا یرقان و کالا یرقان)ایک مہلک بیماری ہے جو جگر کو متاثر کرلیتی ہے، اس مرض کی عموما پہلے پہل علامات ظاہر نہیں ہوتے بعد ازاں جگر میں سوزش پیدا کرنے کے بعد چند ہی سالوں میں جگر سکڑ جاتا ہے اور اگر پھر بھی اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ کینسر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ کروائیں اور علاج کے دوران ایک ہی سرنج اور آلات کو سٹریلائز کئے بغیر مختلف مریضوں پر استعمال کئے جاتے ہیں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ یہ موذی مرض ایک دوسرے سے منتقل نہ ہوں۔ ہیپاٹائٹس اے اور ای (پیلا یرقان)کے مریضوں کی تعداد میں بھی پاکستان میں اضافہ ہورہا ہے جس کی اہم وجہ گندے پانی کا استعمال اور بوسیدہ اور سڑی ہوئی خوراک کا استعمال ہے جس سے اس مرض کے پھیلا کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ہیپاٹائٹس ای حمل کے دوران خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے حاملہ خواتین حمل سے پہلے ہیپاٹائٹس ای کی ویکسین ضرور لگوائیں ہیپاٹائٹس کا مرض ایک شخص سے دوسرے شخص کو استعمال شدہ بلیڈ، سرنج، ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریض کا خون دوسرے شخص کو لگانے، دندان ساز کے غیر سٹریلائزڈ آلات، آلات جراحی، غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے و دیگر ذرائع سے منتقل ہوتا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا ہمارا مقصد لوگوں کی جان بچانا ہے شہری بھی کاپریٹ کریں حفاظتی تدابیر اپنائیں۔احتیاط کیے بنا ہم کسی بھی مرض کو ختم نہیں کر سکتے۔بروقت علاج ہی ہر بیماری کو ختم کر سکتی ہے۔مزید کہا کہ ہسپتال میں سکرینگ ہو رہی ہے شہری اپنا چیک اپ کروائیں جو متاثر ہیں وہ علاج کروائیں جو کلئیر ہیں وہ حفاظتی انجکشن کروائیں۔ آپ مفت میں ٹیچنگ ہسپتال میں انجکشن لگا سکتے ہیں ۔پروگرام کی اختتام میں فائنل ایئر طلباء و طالبات نے ہیپاٹائٹس کے بچاؤ کے لیے ٹیبلو پیش کیا ۔آگاہی واک اور سیمینار میں ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر خالد بلوچ، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالطیف دشتی، سینئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ بلوچ، ڈاکٹر مصباح منیر, ڈاکٹر امتیازبلوچ ، ڈاکٹر امام بخش، ڈاکٹر جبار، ڈاکٹر موسی، ڈاکٹر لعل جان بلوچ، بے نظیر انکم سپورٹ نیوٹریشن پروگرام کیچ کے ڈسٹرکث کوآرڈینیٹر الطاف ساجد، نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر مشکور انور و دیگر ڈاکٹرز ، نرس سمیت پیرامیڈیکل اسٹاف اور سماجی شخصیات نے شرکت کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں