تربت(گدروشیا پوائنٹ) آل پارٹیز کیچ کے وفد کی کنوینر خلیل تگرانی کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کیچ سے ملاقات اور بعدازاں تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس۔آل پارٹیز کیچ کے ایک وفد نے کنوینر خلیل تگرانی کی سربراہی میں منگل کو ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے ان کے آفس میں جاکر ملاقات کی اور ان سے بارڈر ایشوز سمیت ضلع کیچ میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔وفد میں آل پارٹیز کے سنیئر رہنما نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر مشکور انور ایڈووکیٹ، فضل کریم بلوچ، بی این پی کے رہنما سید جان گچکی، محسن بلوچ، آل پارٹیز کیچ کے ترجمان بی این پی عوامی کے رہنما احد الہی میروزئی، پیپلز پارٹی کے رہنما نواب شمبے زئی، پی این پی عوامی مرکزی رہنما خان محمد جان، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر غلام یاسین بلوچ، غفور کٹور، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، ڈپٹی کنوینر جمیل عمر و دیگر شامل تھے۔
وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ سے بارڈر پر کراسنگ پوائنٹ تعداد میں اضافہ کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ضلع کیچ میں تیل کی اضافی قیمتوں سے شھری پریشان ہیں ان پر قابو پایا جائے جس پر ڈی سی کیچ نے بتایاکہ 14 اکتوبر کو کپکپار کراسنگ پوائنٹ افتتاح کیا جائے گا جس کے بعد جالگی اور چکاپ پوائنٹ بھی کھول دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ کراسنگ پوائنٹ کی تعداد میں اضافہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اس وقت ایران میں قیمتوں میں اضافہ ہونے کے علاوہ بارڈر پر ڈیمانڈ زیادہ اور رسد کم ہے اس لیے یہاں قیمتیں زیادہ ہورہی ہیں لیکن اس پر بہت جلد قابو پائیں گے۔
آل پارٹیز کی طرف سے مسنگ پرسنز کے حوالے کہا گیا کہ یہ ضلع کیچ بلکہ بلوچستان کا اہم ایشو ہے اس پر سیاسی جماعتوں اور حق دو تحریک کو بھی سخت تحفظات ہیں، ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہاکہ ضلع کیچ میں 18 لاپتہ افراد کو ہم نے اپنی کوششوں سے بازیاب کرایا مذید چار لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کیچ نے آل پارٹیز کے مطالبے پر کہاکہ بارڈر پر آج سے مخصوص تعداد میں راشن لانے کی اجازت ہے اس پر آئندہ مذید کام کریں گے اور خوردونوش کی اشیاء پر مکمّل اجازت دیں گے، انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک کے جائز مطالبات کا جائزہ لے رہے ہیں جو ہم سے ہوسکیں گے انہیں آل پارٹیز کیچ کے ساتھ مل کر پورا کیا جائے گا لیکن غیر ضروری محاذ آرائی سے عوام کو ہی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے سیاسی جماعتیں اور حق دو تحریک تعاون کریں مسنگ پرسنز پر کام کررہے ہیں جبکہ بارڈر کے حوالے سے چونکہ ایران ایک الگ ملک ہے وہ ہماری خواہشات پر عمل نہیں کر سکتی اس لیے ہم آہستہ آہستہ تمام معاملات کو ان کے ساتھ ڈسکس کریں گے۔
34











