مکران میں تعلیمی انقلاب، شکریہ قائدِ کیچ سید احسان شاہ
تحریر: ڈاکٹر نثار بلوچ
کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کا بنیادی انحصار تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی وہ قوت ہے جو معاشروں کو جہالت، پسماندگی اور محرومیوں سے نکال کر ترقی، شعور اور خودمختاری کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا، انہوں نے نہ صرف اپنی معاشی و سماجی حالت تبدیل کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے۔ اسی لیے کسی بھی سیاسی قیادت کی خدمات کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے کون سے بنیادی ادارے اور مواقع فراہم کیے۔
مکران کی تعلیمی تاریخ میں یونیورسٹی آف تربت کا قیام ایک اہم تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا خطہ جہاں ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے نوجوانوں کو کوئٹہ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، وہاں اپنی جامعہ کا قیام مقامی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آیا۔
یونیورسٹی آف تربت: ایک تاریخی تعلیمی پیش رفت
یونیورسٹی آف تربت کے قیام کا سفر محض ایک تعلیمی ادارے کی تعمیر کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ مکران کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ اس منصوبے کی بنیاد یونیورسٹی آف بلوچستان کے تربت سب کیمپس سے پڑی، جو 2009 سے 2012 تک محدود تعلیمی شعبوں کے ساتھ کام کرتا رہا۔ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی سے یونیورسٹی آف تربت ایکٹ 2012 کی منظوری کے ذریعے اس ادارے کو مستقل جامعہ کی حیثیت دینے کی راہ ہموار ہوئی۔ مئی 2013 میں یونیورسٹی نے باقاعدہ طور پر مکمل جامعہ کی حیثیت سے کام شروع کیا۔
اس تاریخی تعلیمی سفر میں سید احسان شاہ کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے۔ بطور وزیرِ صنعت بلوچستان، انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے قیام کے لیے عملی اور سیاسی سطح پر کردار ادا کیا۔ ان کے حوالے سے یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے قیام کا مسودۂ قانون بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا، جو مکران میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت تھی۔
یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا تھا کہ مکران کے نوجوانوں کو بھی وہی تعلیمی مواقع میسر ہونے چاہئیں جو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے نوجوانوں کو حاصل ہیں۔ ایک ایسی جامعہ کا تصور جہاں تربت، پنجگور، گوادر اور آواران کے نوجوان اپنے علاقے میں رہتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں، یقیناً خطے کی تعلیمی ضروریات کے حوالے سے اہمیت رکھتا تھا۔
گوادر اور پنجگور تک اعلیٰ تعلیم کی توسیع
یونیورسٹی آف تربت کے قیام کے بعد اس تعلیمی سفر کو مزید وسعت ملی۔ 2016 میں گوادر میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے قیام کا عمل شروع ہوا اور جنوری 2017 میں وہاں تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ بعد ازاں یہ کیمپس ترقی کرتے ہوئے اکتوبر 2021 میں یونیورسٹی آف گوادر کی حیثیت اختیار کر گیا۔
اسی طرح پنجگور میں بھی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے قیام کی منظوری اپریل 2019 میں دی گئی اور مارچ 2020 میں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ پیش رفت پنجگور کے نوجوانوں کے لیے ایک نئے تعلیمی دور کا آغاز ثابت ہوئی۔
یوں تربت سے شروع ہونے والا اعلیٰ تعلیم کا سفر گوادر اور پنجگور تک پھیل گیا۔ آج مکران کے تینوں اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے مستقل ادارے موجود ہیں، جو اس خطے کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
تعلیم کے اثرات: نوجوانوں سے معاشرے تک
کسی جامعہ کی اہمیت صرف اس کی عمارت، کلاس رومز یا تدریسی شعبوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں یونیورسٹی قائم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تعلیمی شعور، تحقیق، علمی سرگرمیوں، روزگار اور سماجی ترقی کے نئے امکانات بھی جنم لیتے ہیں۔
مکران کے نوجوانوں کے لیے مقامی جامعات کا قیام کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرنے والے طلبہ کو رہائش، سفری اخراجات اور دیگر معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں تعلیم دلوانا آسان نہیں تھا۔
مقامی جامعات نے ان مشکلات کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اب طلبہ اپنے خاندانوں کے قریب رہتے ہوئے مختلف تعلیمی شعبوں میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے بالخصوص طالبات کے لیے بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں وسعت پیدا ہوئی ہے، کیونکہ مقامی سطح پر تعلیمی اداروں کی موجودگی والدین کے لیے اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانے کے فیصلے کو نسبتاً آسان بناتی ہے۔
اس کے علاوہ جامعات مقامی معاشرے میں اساتذہ، محققین، انتظامی عملے اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتی ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے نوجوانوں میں تحقیق، تخلیقی سوچ اور جدید علوم سے وابستگی کو فروغ ملتا ہے۔
سیاسی قیادت اور تعلیمی وژن
سیاسی قیادت کا اصل امتحان صرف انتخابی کامیابی یا حکومتی عہدہ حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے فیصلوں اور اقدامات کے دور رس اثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ سڑکیں، عمارتیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن تعلیمی اداروں کا قیام ایک ایسا سرمایہ ہے جس کے ثمرات کئی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔
سید احسان شاہ کے حوالے سے یونیورسٹی آف تربت کے قیام کے لیے ان کے کردار کا ذکر اسی تاریخی تناظر میں کیا جاتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کے قیام میں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ قانون ساز اداروں، صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن، جامعات کی انتظامیہ اور مقامی تعلیمی حلقوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے اس کامیابی کو مختلف اداروں اور متعلقہ افراد کی مشترکہ کوششوں کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
تاہم ایسے منصوبوں میں سیاسی سطح پر پیش قدمی، قانون سازی اور اداروں کے قیام کے لیے آواز بلند کرنا بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ مکران میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا یہ سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دور اندیش فیصلے کسی خطے کی سمت تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مکران کا تعلیمی مستقبل اور نئی نسل کی امیدیں
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تربت، گوادر اور پنجگور کی جامعات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ جدید سائنسی علوم، میڈیکل تعلیم، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں کو وسعت دی جائے۔ جامعات میں تجربہ گاہوں، لائبریریوں، ہاسٹلز اور دیگر بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مکران کے نوجوان معیاری تعلیم حاصل کر کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان صرف ڈگریاں حاصل کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشی طور پر خودمختار بننے کے قابل بھی ہوں۔
مکران کی نئی نسل آج جس تعلیمی ماحول میں آگے بڑھ رہی ہے، اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی تعلیمی جدوجہد، سیاسی کوششیں، ادارہ جاتی فیصلے اور اجتماعی محنت شامل ہے۔ اس تاریخی سفر کے تمام کرداروں کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات کا منصفانہ اعتراف کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یونیورسٹی آف تربت کا قیام اور اس کے بعد گوادر اور پنجگور میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا قیام مکران کی تعلیمی تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔ یہ ادارے صرف موجودہ نسل کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے خوابوں، امیدوں اور روشن مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔
شکریہ قائدِ کیچ سید احسان شاہ!
مکران میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے آپ سے منسوب سیاسی اور عملی کاوشوں کو اس خطے کی تعلیمی تاریخ کے تناظر میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ تعلیم کے لیے اٹھایا گیا ایک قدم آنے والی کئی نسلوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے…











