212

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ: سادگی، عوامی خدمت اور قربانیوں کی ایک روشن مثال تحریر: کریم جان نور

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ: سادگی، عوامی خدمت اور قربانیوں کی ایک روشن مثال

تحریر: کریم جان نور

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک ایسی قدآور شخصیت ہیں جن کی زندگی سادگی، عاجزی، اصول پسندی اور عوامی خدمت کے جذبے کی عکاس ہے۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا سادہ طرزِ زندگی، عوام کے ساتھ مضبوط تعلق اور اپنے لوگوں کے مسائل کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہے۔

دنیا کی سیاست میں ایسے رہنما کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے باوجود اپنی اصل، اپنی مٹی اور اپنے عوام سے جڑے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی شخصیت میں یہی خوبی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ سیاست کو ذاتی مفادات اور مراعات کے حصول کے بجائے عوامی خدمت، تعلیم کے فروغ، جمہوری اقدار کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔

ان کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مشکل حالات، سیاسی مخالفت اور مختلف چیلنجز کے باوجود اپنی سیاسی وابستگی اور عوامی خدمت کے سفر کو جاری رکھا۔ ان کی سیاست کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قیادت کا اصل معیار عہدہ، پروٹوکول یا دولت نہیں بلکہ عوام کے ساتھ وابستگی، کردار کی مضبوطی اور اجتماعی مفاد کے لیے کام کرنا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تعلیم دوستی بھی ان کی سیاسی سوچ کا ایک اہم ستون ہے۔ ان کے دورِ حکومت اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کیچ سمیت بلوچستان میں تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تعلیم کے فروغ کو کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد سمجھنا ان کی سیاسی فکر کا اہم حصہ رہا ہے۔

حقیقی ہیرو وہ نہیں ہوتا جو صرف بڑے دعوے کرے، بلکہ حقیقی ہیرو وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھے، ان کے مستقبل کے لیے سوچے اور اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن کسی بھی شخصیت کا منصفانہ جائزہ اس کے کردار، جدوجہد، خدمات اور عوامی وابستگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ہمیں اپنی سیاسی قیادت کا جائزہ نعروں اور ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے کارکردگی، نظریے اور عوامی خدمات کی بنیاد پر لینا چاہیے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سادگی، سیاسی استقامت، عوام دوستی اور تعلیم کے فروغ کے لیے جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔ ایسے رہنما کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔

سلام ہے ان کی سادگی، جدوجہد اور اپنے عوام سے محبت کے جذبے کو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں